بسم ا للہ الرحمن الرحیم
قلم کاروان،اسلام آباد
)لوح و قلم تیرے ہیں(
مجلس مشاورت:
میرافسرامان
دکتورساجدخاکوانی
رانااعجاز
کارروائی ادبی نشست،منگل 31اگست2021ء(ادبی صفحے کے لیے(
منگل31اگست بعد نمازمغرب قلم کاروان کی ہفت روزہ ادبی نشست G6/2اسلام آبادمیں منعقدہوئی۔ پیش نامے کے مطابق آج کی نشست میں ”افغانستان؛نظریاتی پہلو“کے عنوان سے جناب حبیب الرحمن چترالی ڈائرکٹر(ر)پی ٹی وی نیوزکا مضمون طے تھا۔امیرتنظیم اسلامی حلقہ اسلام آبادجناب ڈاکٹرضمیراختر نے صدارت کی۔جناب انورحسن چترالی نے تلاوت قرآن مجیدکی،جناب شہزادمنیراحمد نے مطالعہ حدیث نبویﷺ پیش کیا اوربزم شوری پاکستان کے صدرنشین جناب سلطان محمودشاہین نے گزشتہ نشست کی کاروائی پڑھ کر سنائی۔
صدرمجلس کی اجازت سے جناب حبیب الرحمن چترالی نے اپنامضمون پیش کیاجو قرآن مجیدکی ایک آیت سے شروع کیاگیاتھاجس میں اللہ تعالی نے کافروں کے خائب و خاسراورناکام و نامرادہو کر لوٹنے کاذکرکیاتھا،فاضل مصنف نے ہندوستان پر انگریزوں کے قبضے سے افغانستان تک برطانوی حملے کی تاریخ بتائی اور افغانستان سے ہزاروں گورے فوجیوں میں سے صرف ایک برطانوی سرجن کابچ کر راولپنڈی آمدکاتزکرہ کیا،صاحب تحریرنے بتایا انگریزنے دہلی سے پشاورتک مسلمان علماء کو درختوں سے لٹکالٹکاکر پھانسیاں دی تھیں اور افغان مسلمانوں نے اس کا بدلہ لیا،تحریرمیں علامہ اقبال کاخصوصی ذکر تھاعلامہ کی افغان دوستی اور افغان علمائے اسلام وقبائلی سرداروں کے ساتھ ان کی عقیدت کو بھی تحریرمیں کافی جگہ فراہم کی گئی تھی۔تحریر پر میرافسرامان،خالدحسن،ڈاکٹرصلاح الدین صالح،شہزاد،شہزادمنیراحمداورڈاکٹرساجدخاکوانی نے سوالات اٹھائے،فاضل مضمون نگارنے قرآن و حدیث کے حوالوں اور تاریخی اسنادسے مدلل ومفصل جوابات دیے۔تحریرپرتبصرہ کرتے ہوئے جناب عالی بنگش نے کہاکہ خوش فہمیوں کاتسلسل چل رہاہے،انہوں نے کہاکہ پاکستان کوسب سے پہلے ایران نے تسلیم کیاتھااورسب سے آخرمیں افغانستان نے،انہوں نے کہاکہ پاکستان میں جگہ جگہ افغانستان کے مستقبل بنے جارہے ہیں۔جناب شہزادمنیراحمدنے کہاکہ افغان مہاجرین کے آنے سے پاکستان میں مزدوروں کے نرخ بہت کم ہوگئے تھے اور سستے داموں مزدوروی کرنے والے مل جاتے تھے،انہوں نے کہاکہ افغان ایک سخت کوش قوم ہے جس کے باعث انہوں نے طویل جنگ میں بہت بڑی قوت سے فتح حاصل کی۔جناب سلطان محمودشاہین نے کہاکہ پاکستان اورافغانستان کے معروضی حالات بہت مختلف ہیں اوردونوں ملکوں میں بسنے والوں کے مزاج بھی مختلف ہیں اس لیے فوری طورپر افغانستان کے مستقبل کے بارے میں کچھ کہناقبل ازوقت ہوگا۔تبصروں کے بعدشعرانے اپنااپناکلام سنایاجن میں ڈاکٹرصلاح الدین صالح،ڈاکٹرآغانورمحمد،سلطان محمودشاہین،عالی شعاربنگش،شیخ عبدالرازق عاقل،شہزادمنیراحمداور جمال زیدی شامل تھے۔معمول کے سلسلے میں جناب شہزادعالم صدیقی نے مثنوی مولائے روم سے اپناحاصل مطالعہ شرکاء محفل کے ساتھ تازہ کیا۔
آخر میں صدرمجلس جناب ڈاکٹرضمیراخترنے قرآن مجیدکی اس آیت کے ساتھ اپناخطاب شروع کیاکہ ”کم تعدادوالے اللہ تعالی کے حکم سے زیادہ تعدادوالوں پر غالب آجاتے ہیں“،انہوں نے احادیث اور علامہ اقبال کے متعدد اشعار بھی سنائے۔صدر مجلس نے کہاکہ جس طرح فرداپناماضی بھلاکر سب کھو بیٹھتاہے اسی طرح قوموں کابھی ماضی سے رشتہ کاٹ دیاجائے تو وہ اپنی اصل بھلا بیٹھتی ہیں اور حالات کاآسیب انہیں نگل لیتاہے،انہوں نے کہا مقدس صحائف میں جن اچھے دنوں کی پیشین گوئیاں کی گئیں ہیں ان کا مصداق پاک سرزمین ہی ہے۔صدارتی خطبے کے بعد تحریک نفاذاردوپاکستان کے صدرجناب عطاالرحمن چوہان کے مرحوم والدمحترم کے لیے فاتحہ پڑھی گئی جس کے بعد آج کی نشست ختم ہوگئی۔

شیئر کیجئے

Share on facebook
Share on twitter
Share on telegram
Share on whatsapp
Share on linkedin
Khakwani

Khakwani

کارگزاری

اس جماعت کا نام "جماعت اسلامی پاکستان” اور اس دستور