کارروائی ادبی نشست،منگل 2اگست 2022ء

کارروائی ادبی نشست،منگل 2اگست 2022ء

بسم ا للہ الرحمن الرحیم

قلم کاروان،اسلام آباد

(لوح و قلم تیرے ہیں)

مجلس مشاورت:

میرافسرامان

دکتورساجدخاکوانی 

رانااعجاز            

کارروائی ادبی نشست،منگل 2اگست 2022ء

                منگل2اگست بعد نمازمغرب قلم کاروان کی ہفت روزہ ادبی نشست G6/2اسلام آبادمیں منعقدہوئی۔ پیش نامے کے مطابق آج کی نشست  میں دواگست1990کوعراق کے کویت پر حملے کی تاریخ کے موقع پر ”جنگ خلیج:پس و منظروپیش منظر“کے عنوان پرسلطان محمودشاہین کا ،اور”قرآن مجید:ترتیب نزولی اورترتیب توقیفی“پرپروفیسر ثاقب رضانورکے مقالات طے تھے۔بزرگ شاعر جناب انعام الرحمن انعام نے صدارت کی۔جناب ڈاکٹرآغانورمحمدنے تلاوت قرآن مجیدکی،جناب شہزادمنیراحمد نے مطالعہ حدیث نبویﷺ پیش کیا،جناب احمدمحمودالزماں نے اپنی لکھی ہوئی ایک نعت شریف اورجناب ڈاکٹرصلاح الدین صالح نے ترنم سے نعت رسول مقبولﷺپیش کی اورجناب سیدانصرگیلانی نے گزشتہ نشست کی کارروائی  پڑھ کرسنائی۔

                  صدرمجلس کی اجازت سے جناب سلطان محمودشاہین نے اپنامقالہ پیش کیااوربتایا عراق کویت پراپنے تیل کی چوری کاالزام لگاکرچڑھ دوڑااورکویتی قیادت اورعوام اپناملک خالی چھوڑ کر فرارہوگئے،جب سعودی عرب کو اپنی بقاکے خطرات لاحق ہوئے توسعودی قیادت نے اپنی حفاظت کے لیے امریکہ سے درخواست کی،امریکہ نے گویایہ ساراکھیل اسی مقصد کے لیے کھیلاتھااوریوں امریکی افواج مشرق وسطی میں اپنے اڈے بنانے میں کامیاب ہوگئیں،صاحب مقالہ نے اس جنگ کے آج تک کے اثرات بدکا مختصراحاطہ بھی کیا۔اس کے بعد جناب  پروفیسرثاقب رضانورنے قرآن مجیدکے پوشیدہ اسرارورموزپر اپنامقالہ پڑھا،انہوں نے بتایا بیس سالہ پاکستان نیوی میں سمندروں کے سفرنے انہیں خداکے بہت قریب کردیا،انہوں نے اپنے ذاتی حیران کن متعددواقعات سنائے،پروفیسرصاحب نے قرآن مجید کی ہندسیائی تحقیق پر اپنے قابل قدرتخریجی حقائق شرکاء کے سامنے پیش کیے جنہیں حاضرین نے بے حد پسندکیا،انہوں نے قرآن مجیدکے ساتھ انسان کے سات قسم کے تعلقات کی وضاحت بھی کی۔وقت کی قلت کے باعث صدرمجلس نے وقفہ سوالات معطل کردیا اور تبصروں کی دعوت دی۔جناب ساجدحسین ملک نے کہاکہ مقالہ بہت اچھاتھالیکن موضوع کے متعلق مواد کم تھا،انہوں نے کہاکہ قرآن مجیدایک زندہ کتاب ہے۔جناب سیدانصرگیلانی نے جنگ خلیج والے مقالے پرتبصرہ کرتے کہاکہ طاقت کی کوئی اخلاقیات نہیں ہوتی،انہوں نے دنیاکی بڑی بڑی جنگوں سے مثالیں بھی پیش کیں۔جناب شہزادمنیراحمدنے اتحادامت پرزوردیااورکہاہم متحدہوکرحالات کامقابلہ کرسکتے ہیں۔جناب اکرم الوری نے مقالے پر پسندیدگی کااظہارکیااورکہاکہ یہ مقالہ قرآن مجیدکی روحانیات سے متعلق تھا۔جناب سلیم رضاایڈوکیٹ نے کہاکہ مقالے کاعنوان علوم قرآنیہ سے ہے،انہوں نے اس علم کی متعددامہات الکتب کاتذکرہ بھی کیا۔جناب احمدمحمودالزمان نے فاضل مقالہ نگارسے جزوی اختلاف کیااورکہا یہ قرآنی رازہیں جن کاکھوج لگانادرست نہیں۔جناب ڈاکٹرآغانورمحمدنے نمازوں کے اوقات میں مختلف سورتوں کی تلاوت کے فضائل بیان کیے۔دامن وقت میں تنگی کے باعث صرف دوشعرا،جناب عبدالرازق عاقل اورعبدالرشیدثاقب کو اپناکلام پیش کرنے کی اجازت ملی۔معمول کے سلسلے میں جناب شہزادعالم صدیقی نے مثنوی مولائے روم سے حاصل مطالعہ پیش کیا۔نشست میں پروفیسرداؤد چاولہ اور شہزادمنیراحمدنے اپنی کتب بھی حاضرین محفل میں ہدیۃ تقسیم کیں۔

                آخرمیں صدرمجلس جناب انعام الحق انعام نے مقالات اور تبصروں کی تعریف کی اورکہاکہ اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام کو جن اشیاء کے نام سکھائے تھے پہلے ان کی شناخت عطاکی تھی،شرکاکے اسرارپرانہوں نے اپنی ایک طویل نظم بھی سنائی۔ صدارتی خطبے کے بعد اعلان کیاگیاکہ اگلے منگل بوجہ شب عاشورہ قلم کاروان کی نشست نہیں ہوسکے گی،اس کے ساتھ ہی آج کی نشست کااختتام ہوگیا۔

شیئر کیجئے