وی ٹرسٹ کا یوم خندق پروگرام

وی ٹرسٹ کا یوم خندق پروگرام

20 جون 2022ء

میر افسر امان

کیمپ ایٹ کراچی

 وی ٹرسٹ کا یوم خندق پروگرام

18 /جون کو”وی ٹرسٹ“ گلشن اقبال میں یوم خندق کے حوالے سے پروگرام رکھا گیا۔اس میں راقم کو عطا تبسم صاحب کے ذریعے پروفیسر شفع ملک صاحب کا وٹس ایپ دعوت نامہ ملا۔پہلے تو یہ دیکھتے ہیں کہ وی ٹرسٹ کیا ہے۔ یہ کس نے بنایا ہے۔یہ کن مقاصد کے لیے بنایا گیا ہے۔اب اس کا روئے رواں کون ہے۔

 وی ٹرسٹ گلشن اقبال کراچی میں قائم ہے۔ اس کوپاکستان میں مزدروں کی فیڈریشنوں کے متعلق جانی پہچانی،بلکہ بین ا لقوامی طور پر مشہور شخصیت جناب پرفیسر شفیع ملک نے قائم کیا ہے۔نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان میں مزدورں کی سب سے بڑی فیڈریشن ہے۔ اس کے مین مقصد میں مزدورں کی فلاح بہبود ہے۔ وی ٹرسٹ دنیا میں جاری مزدرو تحریکوں کے متعلق معلومات پاکستان کی مزدور فیڈریشنوں تک پہنچانے کااہتمام کرتا رہا ہے۔وی ٹرسٹ میں دنیا کی مزدروں تحریکوں کے رہنماؤں کے پروگرام شفیع ملک صاحب نے کرائے ہیں۔یہ پاکستان کے مزدور فیڈریشنوں کی نمایندوں کی اسلامی نظریہ حیات کی بنیاد پر تربیت کرنے کے پروگرام ترتیب دیتا رہتا ہے۔آجر اور اجیر کے تعلقات پر معلوماتی سیمینار منعقد کراتا ہے۔ مزدورں کے بین القوامی طو ر پر تسلیم شدہ حقوق کو پاکستانی حکومتوں سے حاصل کرنے کی کوششیں کرتا ہے۔ حکومتوں کی لیبر پالیسیوں میں مزدروں کی فلاح بہبود کے لیے مفید مشورے دیتا ہے۔ وی ٹرسٹ کامشن مزدروں کو کیمونسٹ فاشسٹ مزدرو تحریک سے ہٹا کر اسلامی طرز معیشت کے مطابق تربیت کرنا ہے۔

 اس لیے ذرا کیمونزم پر بھی بات کر لیتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ دنیا میں کیمونسٹ انقلاب برپا ہوا تھا۔ ستر(70)سال کے اندر اندر آدھی دنیا پر چھا گیا تھا۔ اس کا فاسد فلسفہ تھا کہ دل سے خدا کا فرسودہ خیال نکال دو۔ مذہب ایک افیون ہے۔یعنی انسان معاشی جانور بن جائے۔اپنے اس نظریہ کو دنیا میں تقویت پہنچانے کے لیے روس کیمونسٹ کے وزیر اعظم خروشیف نے ایک ڈرامہ بھی رچایا تھا۔ایک اسپونک(راکٹ) فضا میں چھوڑا۔ پھر روس کے سرکاری اخبار ”پر ا ودا“ نے خبر لگائی کہ فضاؤں میں ہمیں خدا کا نام و نشان نہیں ملا۔ کہیں بھی فرشتے اُترتے چڑتے نظر نہیں آئے۔نہ ہی جنت دوزخ کا نشان ملا۔ خدا کے خلاف اس اعلانیہ بغاوت پر مجدد وقت سید ابو الا اعلی ٰ مودودی ؒنے گرفت کرتے ہوئے اپنی ایک تحریر میں فرعون اور خروشیف روسی وزیر اعظم کی کفرانا بیانیہ کا موازانا کیا تھا۔فرعون نے بھی اپنے وزیرہامان سے کہاتھا کہ ایک اینٹوں کا اُوپنچا چبوررہ بناؤ۔ میں اُوپر چڑھ کر موسیٰؑ کے خدا کو دیکھنا چاہتا ہوں۔سید مودودیؒ لکھتے ہیں ’’حتیٰ کہ ایک وقت وہ آئے گا جب کمیونزم خود ماسکو میں اپنے بچاؤ کے لیے پریشان ہو گا۔ سرمایہ دارانہ ڈیموکریسی خود واشنگٹن اور نیویارک میں اپنے تحفظ کے لیے لرزہ براندام ہو گی۔ مادہ پرستانہ الحاد خود لندن او ر پیرس کی یونیورسٹیوں میں جگہ پانے سے عاجز ہو گا۔نسل پرستی اور قوم پرستی خود برہمہنوں اور جرمنوں میں میں اپنے معتقد نہ پا سکے گی“ ماخوذ تقریر30 دسمبر 1946ء کتابچہ شہادتِ حق۔پھر دنیا نے دیکھا کہ فاقہ مست افغان مجاہدین نے کیمونسٹ روس کو شکست دی۔ کیمونسٹ روس سے وسط ایشیا کی چھ اسلامی ریاستیں،قازقستان،کرغیزستان،اُزبکستان،ترکمانستان، آزر بائیجان اورتاجکستان آزاد ہوئیں۔ مشرقی یورپ آزاد ہوا۔ دیوار برلن ٹوٹی۔اس تناظر میں سید ابو الا اعلیٰؒ نے پروفیسر شفیع ملک صاحب کو پاکستان میں مزدروں میں کیمونسٹ نظریات کو روکنے کے کام پر لگایا تھا۔ ملک صاحب نے نیشنل لبیر فیڈریش کے پلیٹ فارم سے جد وجہد شروع کی۔سارے پاکستان سے کیمونسٹ نظریات کی مزدرور تحریکوں کو شکست فاش دی۔ تحت پاکستان میں کیمونسٹ اپنی ساری زندگی اس کام میں کھپا دی۔بڑھاپے میں بھی وی ٹرست کے ذریعے مزدروں کی بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں۔ پاکستان کی ساری ملوں، فیکٹریوں اور اداروں سے کیمونسٹ مزدور تحریکوں کو جمہوری طریقے سے شکست دے کر نیشنل لیبرفیڈریش کے جھنڈے گھاڑ دیے۔ 

 وی ٹرسٹ میں یوم خندق کے پروگرام میں این ایل ایف کے موجودہ اور سابقہ عہدیداروں نے شرکت کی۔ پروگرام کی کمپیرنگ ڈاکٹر فواد احمد سیکر ٹیری وی ٹرسٹ نے کی۔ سب سے پہلے ٹرسٹ کے چیئرمین پروفیسر شفیع ملک کو اسٹیج پر بلایا گیا۔ وی ٹرسٹ میں یوم خندق کے حوالے سے پروفیسر شفیع ملک صدر ٹرسٹ نے اپنی افتتاہی تقریر میں کہا کہ کس طرح یوم مئی، مزودرں کے دن کے مقابلے میں یوم خندق منانے کی کوششیں کی گئیں۔ انہوں نے کہاکہ جنرل ضیا کے دورحکومت میں ان کی کوششوں کے نتیجے میں شوریٰ نے پاکستان میں یوم خندق منانا منظور کیا۔ پھر سینیٹ میں پروفیسر خورشید اور پروفیسر عبدالغفور کی محنت سے قرادار منظور کی گئی۔ اب مسلم دنیا کے چار ملکوں میں یوم خندق منایا جاتا ہے۔ انہوں نے

این ایل ایف کے ذمہ داروں پر زرور دیا کہ ا سے پوری مسلم دنیا میں منانے کے لیے کوششیں تیز سے تیز تر کرنی چاہییں۔

 اس کے بعد این ایل ایف کے سابق صدر رانا محمود علی خان کو تقریر کے لیے بلایا گیا۔ رانا صاحب نے اپنے دور صدارت کے دوران یوم خندق منانے پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال یوم مئی کے دن  بڑے بڑے جلسوں کی قیادت کرتے رہے۔ان جلوسوں میں اسلامی دنیا کے ملکوں کے جھنڈے لہرائے جاتے تھے۔ جس کی ہر مکتبہ فکر کے علماء نے تعریف اورہماری رہنمائی بھی فرمائی۔این ایل ایف ہمیشہ یوم خندق مناتی تھی۔ شاہد اب ایسا نہیں ہورہا۔ اس پر حاضرین میں سے ایک این ایل ایف کے ایک عہدہ دار اُٹھے۔کہا کہ اب بھی این ایل ایف نے پاکستان میں کچھ جگہوں پر یوم خندق منایا ہے۔ ایک عدد پوسٹر بھی شایع کیا ہے۔ رانا صاحب نے کہا کہ پاکستان میں روشن خیال ذوالفقارعلی بھٹو وزیر اعظم پاکستان نے اپنے دور حکومت میں پہلی دفعہ یوم مئی منانے کی ریت ڈالی تھی۔ اس کے بعد مشہور شاعر نعیم الدین نعیم نے ترنم میں یوم خندق پر اپنے نظم پڑھ کر حاضرین سے داد وصول کی۔ نورالدین نور اور اکرام راز، محترم شعرء حضرات نے یوم خندق پر اپنا اپنا قیمتی کلام پیش کیا۔اس کے بعد عطا تبسم صاحب، سیکر ٹیری ہماری ویب رائیٹرز کلب کراچی نے سینئر کالمسٹ، دانشور،مصنف، شاعر اور سیکرٹری شعبہ علم وادب قلم  کاروان،جماعت اسلامی ضلع اسلام کا مضمون”یوم مزدور۔ یا۔ یوم خندق“ پڑھ کر سنایا۔اس مضمون میں یوم مئی، نیشنل لیبر فیڈریشن، وی ٹرسٹ اور پاکستان میں مزدور تحریک پر تفصیلی مواد شامل تھا۔

آخر میں اسٹیج سیکرٹیری نے مہمان خصوصی جناب معراج الہدیٰ صدیقی نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان کو تقریر کے لیے بلایا۔ معراج الہدیٰ نے پروفیسر شفیع ملک صاحب کی مزدروں میں کام اور وی ٹرسٹ کی مزدروں کے متعلق سرگرمیوں کو سرہایا۔ مزرود تحریک پراستعمار کی گرفت کومثالوں کے ذریعے حاضرین کو سمجھایا۔ ای ایل ایف کو جماعت اسلامی کا مزدروں میں ہراول دستہ قرار دیا۔ این ایل ایف  کے کام کی تعریف کی اور بڑوھتی کی دعا کی۔ یوم خندق پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ اس تقریب میں میرافسر امان سینئر کالمسٹ نے اپنی نئی اور چھوتھی کتاب”افغانستان سلطنتوں کا قبرستان“ پروفیسر شفیع ملک، عطا تبسم،غلام ربانی، قمرالدین سیکرٹیری جمعیت الفلاح اور شاعرنعیم الدین نعیم کوپیش کی۔ ان کے بعد نماز عصر ادا کی گئی۔ اور آخر میں حاضرین کی چائے  بسکٹ سے کی تواضع کی گئی۔

شیئر کیجئے