(سرمہ ہے میری آنکھ کاخاک مدینہ و نجف)

(سرمہ ہے میری آنکھ کاخاک مدینہ و نجف)

بسم ا للہ الرحمن الرحیم

 (عالمی حلقہ(

مطالعہ سیرۃ النبی ﷺ

(سرمہ ہے میری آنکھ کاخاک مدینہ و نجف)

مجلس مشاورت:

میرافسرامان

دکتورساجدخاکوانی 

رانااعجاز            

کارروائی مطالعاتی نشست،اتوار31جولائی2022ء

                اتوار31جولائی”(عالمی حلقہ) مطالعہ سیرۃ النبیﷺ“کی مطالعاتی نشست لہروں کے دوش پر منعقدہوئی۔ پیش نامے کے مطابق آج کی نشست میں آغازسال نوماہ محرم الحرام کے حوالے سے ”سیرۃ النبیﷺ اورتقویم اسلامی“کے عنوان پرلاہورسے پروفیسر ثاقب رضانور،ماہرطبعیات وماہرعلوم ہندسہ، کاخطاب طے تھا۔جامعہ الازہرمصرسے علامہ محمدکاشف نور نے صدارت کی۔واہ کینٹ سے عنایت الحق قریشی نے تلاوت قرآن مجیدکی،چنیوٹ سے ڈاکٹرامان اللہ خان نے مطالعہ حدیث نبویﷺ پیش کیااورملتان سے ڈاکٹرفارحہ جمشید نے گزشتہ نشست کی کاروائی پڑھ کرسنائی۔

                  صدرمجلس کی اجازت سے جناب پروفیسرثاقب رضانورنے ”تقویم“کی اہمیت کے پیش نظرقرآن مجیدکی اس آیت سے خطاب کاآغازکیا”لقدخلقناالانسان فی احسن تقویم“،انہوں نے اپنے خطاب کے چارحصے بتائے،وقت کی اہمیت،ہجری تقویم کے امتیازات،مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں ہجری تقویم کامقام اورقیام پاکستان میں ہجری تقویم کاکردار،فاضل مقررنے بتایاکہ دنیامیں پندرہ کیلنڈررائج ہیں جن کے تین مصادرہیں،سورج،چانداورستارے،انہوں نے بتایا سب کیلنڈرزتبدیل ہوتے رہے اورمقتدرہستیاں ان کی تواریخ اورمہینے آگے پیچھے کرتے رہتے تھے لیکن ہجری کیلنڈرمیں آج تک کوئی ترمیم نہیں ہوئی،انہوں نے باسرارکہاکہ اسلامی حکومتوں اورمسلمان معاشروں میں ہجری تقویم نافذہونی چاہیے۔خطاب پر گوجرخان سے پی ایچ ڈی اسکالراعجازرازق،اکرم الوری،ساجدخاکوانی اورسعودی عرب سے اعجازچوہدری نے سوالات اٹھائے،فاضل مقررنے بڑی تفصیل سے ان کے جوابات مرحمت فرمائے۔خطاب پرتبصرہ کرتے ہوئے جناب طارق شاہین نے کہاکہ چاندکے گھٹنے بڑھنے سے تاریخ کااندازہ ہوجاتاہے لیکن ایساکوئی قرینہ سورج میں موجودنہیں۔مقبوضہ کشمیرسے عاقب شاہین میرنے خطاب کوپسندکیا۔جناب اکرم الوری نے کہاکہ جب خلافت اسلامیہ قائم ہوگی توپوری دنیامیں ایک ہی کیلنڈرنافذہوگا۔سوات سے جناب بہاراحمدنے کہاکہ ہجری سال میں شمسی سال کی نسبت گیارہ دن کم ہوتے ہیں۔واہ سے محترمہ شفقت نازنے بتایاکہ شام سے آنے ایک شخص کوآپﷺنے فرمایاتھاکہ شام کے لوگ اپنے علاقے میں چانددیکھ کرعیداداکریں،یعنی اہل مدینہ کی تتابعت ضروری نہیں۔مقبوضہ کشمیرسے محترمہ سیدہ حمیرااندرابی نے کہاکہ ہجرت مدینہ سے کیلنڈرکی ابتداکی تجویزحضرت عثمان ؓنے پیش کی تھی۔گوجرانوالہ سے نسیم اخترنے تحریری تبصرے میں کہاتقویم اسلامی کی ترویج کے لیے کوئی لائحہ عمل تیارہوناچاہیے۔لاہورسے شازیہ حسن نے بھی تحریری تبصرے میں خطاب پراپنی پسندیدگی کااظہارکیا۔معمول کے سلسلے میں شہزادعالم صدیقی نے حافظ عبدالرحمن جامی کی فارسی نعتیہ کلام سے اپناحاصل مطالعہ شرکاکے ساتھ تازہ کیا۔

                آخر میں صدرمجلس جناب علامہ محمدکاشف نورنے خطاب کوبہت جامع اور پرمغزقراردیا،انہوں نے کہاآج کے دن اس موضوع پر خطاب اس لیے بھی جچتاہے کہ آج یوم شہادت فاروق اعظم ہے اورہجری تقویم کاآغازبھی انہوں نے ہی کیاتھا،صدرمجلس نے وقت ی اہمیت بتاتے ہوئے وہ حدیث نبویﷺ بیان کی جس میں پانچ چیزوں کوپانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جاننے کاکہاگیاہے،صدرمجلس کے مطابق ان پانچوں کاتعلق بلاشبہ وقت کی اہمیت سے ہے،انہوں نے کہاکہ ہجری تقویم اگرچہ اسلام کی انفرادیت ہے لیکن شمسی تقویم اختیارکرنے میں بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ قرآن مجیدنے کل کائنات کواپنے اندرسمیٹاہواہے۔صدارتی خطاب کے بعدمطالعاتی نشست ختم ہوگئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔www.qalamkarwan.org)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شیئر کیجئے